آرمی کو قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس کے اختیارات دیے گئے۔ طلبہ رہنمائوں کی ہدایت پر یونیورسٹی اور کالجوں کے طلبہ نے امن و امان کو بحال کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان لوگوں نے ہر وہ کام کیا جس کے تعاون کی حکومت کو ضرورت تھی۔ اخبارات میں اشتہار کے ذریعے پولیس کو اپنی ڈیوٹیوں پر واپس آنے کا کہا گیا اور ساتھ ہی نئی بھرتیوں کا اعلان کیا گیا۔ ۶۳۹ پولیس اسٹیشنوں پر نئے SHO کا تقرر کیا گیا۔ کافی محنت کے بعد نیا انتظامی ڈھانچہ کھڑا ہوا اور شہر میں امن و امان بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
۱۶؍ستمبر کو ڈاکٹر یونس نے فوج کو جو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے تھے اس سے بہت بہتری آئی، جو لوگ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوری اور رہزنی، ڈکیتی میں مصروف ہو گئے تھے، فوج نے انہیں پکڑ کر فوری سزائیں دیں۔پولیس اور فوج نے طلبہ رہنمائوں کے ساتھ مل کر رات دن محنت کی۔ اس سے ملکی حالات کافی بہتر ہو گئے۔
عوامی لیگ، چھاترو لیگ (اسٹوڈنٹ لیگ) اور جبولیگ (یوتھ لیگ) یہ تینوں دراصل عوامی لیگ کی ذیلی تنظیمیں ہیں۔ یہ سب پورے بنگلادیش میں لوٹ مار میں مصروف تھے۔ حسینہ کے فرارہونے کے بعد یہ سب بھی وہاں سے فرار ہوگئے اور ان کی جگہ B.N.P کے Cadre (مسلح کارکنوں) نے سنبھال لی۔ بی این پی سے مراد خالدہ ضیاء کی پارٹی، عوامی لیگ کے بعد بنگلادیش میں B.N.P بڑی پارٹی ہے۔ انہیں عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ ڈھاکا میں اُن کے لاکھوں فالورز ہیں۔ اُس وقت کی نئی حکومت اُن سے جھگڑا مول لینا نہیں چاہتی تھی، لیکن یہ صورتِ حال بنگلادیش کے عوام کو پریشان کر رہی تھی۔
طلبہ رہنمائوں نے اس صورتِ حال کا جائزہ لیا اور ان سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیاتاکہ ملک میں امن و امان کو قائم رکھا جاسکے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ۱۵۰۰؍ سے زائد طلبہ اس لیے شہید نہیں ہوئے تھے کہ عوامی لیگ بھاگ جائے اور B.N.P کے مسلح کارکن اُن کی جگہ لے لیں۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اُن شرپسند عناصر سے مقابلہ کے لیے میدان میں آئیں۔ انہوں نے دینی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس صورتِ حال کا جائزہ لیں اور طلبہ کی پکار پر میدان میں آئیں اور سب مل کر ان شرپسندوں کا مقابلہ کریں۔ فوج اور پولیس بھی اُن میں شامل ہو گئی اور یوں حالات تیزی سے بہتری کی طرف آ گئے۔ حالات تو بہتر ہوئے مگر B.N.P کو اس سے سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا۔ لوگوں کو سمجھ آ گئی کہ B.N.P کا کردار بھی عوامی لیگ جیسا ہی ہے۔ طلبہ رہنمائوں کی اس بات کو لوگوں نے بہت پسند کیا اور سراہا کہ عوامی لیگ سے اختیارات لے کر B.N.P کے حوالے کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہم ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔
طلبہ رہنمائوں کو سمجھ آ گئی کہ مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں بلکہ ابھی ان کا اور بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا انہوں نے ڈاکٹر یونس سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کالج اور یونیورسٹیاں کھول دی جائیں، کیونکہ طلبہ اس انقلاب کے روح رواں ہیں، لہٰذا انہیں دوبارہ منظم کیا جائے، انہیں صورت حال سے آگاہی دی جائے۔ چنانچہ پورے بنگلادیش میں انہوں نے ازسرنو طلبہ کو منظم کیا۔ سیمینار سمپوزیم کیے گئے۔ تمام نوجوانوں کو حالات سے آگاہی دی گئی۔ عوامی لیگ کی جانب سے کائونٹر ریوالوشن (Revolution) کا ذکر کیا اور طلبہ کو تیاررہنے کی ہدایت کی گئی۔
انصار باہنی (Ansar Force) کا حملہ
اچانک ایک دن انصار فورس نے سیکریٹریٹ کا گھیرائو کیا، اُن میں ہزاروں انصار موجود تھے۔ حسینہ حکومت نے یہ فورس بنائی تھی اور انہیں فوجی تربیت بھی دی تھی۔ حسینہ واجد نے اس فورس کے لیے اپنے علاقے گوپال گنج سے زیادہ بھرتیاں کی تھیں۔ اس فورس کی تعداد ۴۰ ہزار سے زیادہ تھی۔ حسینہ واجد کی شہ پر انصار فورس نے سیکریٹریٹ پر دھاوا بولا۔ سیکریٹریٹ کے لوگوں کو یرغمال بنایا اور پورے سیکریٹریٹ پر قبضہ کرلیا۔ طلبہ رہنمائوں اور حکومت نے محسوس کر لیا کہ ان کا ارادہ خطرناک ہے اور یہ ڈاکٹر یونس کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لیے فوج کے علاوہ کوئی فورس موجود نہیں تھی۔ طلبہ نہیں چاہتے تھے کہ فوج کو اُن کے خلاف استعمال کیا جائے، کیونکہ فوج کے انکار کی صورت میں حکومت ختم ہو جاتی۔
طلبہ رہنمائوں نے نوجوانوں سے سیکریٹریٹ کے گھیرائو کی اپیل کی۔ ڈھاکا میں لاکھوں طلبہ تعلیمی ادارے کھلنے سے ہاسٹلوں میں موجود تھے۔ سب لڑکے لاٹھیاں اور ڈنڈے لے کر سیکریٹریٹ کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ لاکھوں طلبہ کا جلوس تھا۔ دست بدست لڑائی ہوئی جس میں سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے۔ اسی طرح انصار والے بھی زخمی ہوئے۔ بالآخر اسٹوڈنٹس تعداد میں بھی زیادہ تھے، پُرعزم بھی تھے، منظم بھی، اُن کے سامنے انصار فورس ٹھہر نہ سکی۔ انہیں خوب مار پڑی، اُن کی بھاگتے ہوئے ویڈیوز میڈیا نے خوب نشر کیں۔ طلبہ نے دور تک اُن کا پیچھا کیا۔ انصار باہنی کے کمانڈر نے معافی مانگی اور فوج سے درخواست کی کہ انہیں پناہ دی جائے، اور اس طرح یہ خطرہ ملک پر سے ختم ہوا اور طلبہ کا کنٹرول برقرار رہا۔ عوامی لیگ کو ایک دفعہ پھر نصیحت ہوئی کہ طلبہ منظم اور پرعزم ہیں اور ملک کی آزادی کے لیے ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔
۱۰؍نومبر کا واقعہ!
عوام کا خیال تھا کہ انصار فورس کی طلبہ کے ہاتھوں پسپائی کے بعد اب عوامی لیگ کوئی اور قدم نہیں اٹھائے گی۔ مگر اُن کی یہ توقع غلط ثابت ہوئی، انہوں نے ۱۰؍نومبر کو ڈھاکا میں بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا۔ سوشل میڈیا میں اس کی کمپین چلائی، اشتہارات دیے۔ بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اس مظاہرے کی تشہیری مہم چلائی۔ بنگلادیش سے فرارہونے والے تمام عوامی لیگ کے رہنمائوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی پارٹی کے لوگوں سے رابطہ کیا اور انہیں اس مظاہرے میں شرکت کی تلقین کی۔ بے تحاشا وسائل کا استعمال کیاگیا اور اس مظاہرے کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور مہم چلائی اور پورے بنگلادیش میں یہ فضا بنانے میں کامیاب ہو گئے کہ عوامی لیگ دوبارہ منظم ہورہی ہے۔ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ڈاکٹر یونس کی حکومت تذبذب کا شکار ہو گئی۔
عوامی لیگ کی طرف سے کمپین اتنی بھرپور کی گئی کہ طلبہ رہنمائوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بہت منظم ہو کر میدان میں آنا پڑا۔ ۹نومبر کی رات کو انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ رات کو ہی ڈھاکا کا کنٹرول سنبھال لیں، خاص طور پر اُن جگہوں پر جہاں عوامی لیگ نے مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ طلبہ رہنمائوں نے دوبارہ تمام دینی جماعتوں سے رابطہ کیا۔ اُن میں جماعت اسلامی، نظامِ اسلام پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، پیر چرمنائی اور شبر کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور ۱۰؍نومبر کو میدان میں موجود رہنے کی اپیل کی۔ اُن کی اپیل پر بنگلادیش کی تمام دینی جماعتوں نے سپورٹ کیا اور ۱۰؍تاریخ کو صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد ڈھاکا شہر کوگھیر لیا۔ یہ لوگ توقع کر رہے تھے کہ عوامی لیگ مسلح ہوں گے اس لیے یہ لوگ بھی تیاری کرکے آئے تھے۔ انہوں نے ہر گلی ہر سڑک اور ہر چوک پر قبضہ کیا او رعوامی لیگ کا انتظار کرنے لگے۔ یہ لوگ بھی تعداد میں لاکھوں میں تھے اور ملک کی خاطر پُرعزم تھے۔ یہ لوگ سارا دن انتظار کرتے رہے مگر عوامی لیگ نے سڑک پر نکلنے کی ہمت نہ کی۔ علما کرام نے خبردار کیا کہ عوامی لیگ کو پورے بنگلادیش میں کسی جگہ جلسے اور جلوس کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے حکومت کی پوزیشن اور مضبوط ہو گئی۔ جس ذلت اور رسوائی کا عوامی لیگ نے سامنا کیا۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ عوامی لیگ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گی۔
حکومت کی طرف سے یونیورسٹی اور کالجز کھلنے کا اعلان کیا گیا تو اکثر کالجوں کے پرنسپلز نے استعفیٰ دے دیا اور اسی طرح یونیورسٹیز کے V.Cs نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ یہ سب بھی حسینہ حکومت نے نامزد کیے ہوئے تھے اور یہ سب لوگ حسینہ گورنمنٹ کے ساتھ مل کر کرپشن میں مبتلا تھے اور سب مالی بددیانتی میں ملوث تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ طلبہ رہنمائوں کی پکڑ میں نہ آجائیں۔ لہٰذا سب نے ڈیوٹی چھوڑ کر فرار ہونے کو ترجیح دی۔ حکومت نے ان خالی عہدوں کو پر کرنے کے لیے ایک سرچ کمیٹی بنائی۔ کمیٹی نے پورے بنگلادیش کی یونیورسٹیز کے V.C کی خالی سیٹوں کے لیے نامزدگی کی سفارش کی اور اسی طرح کالجز کے پرنسپلز کی بھی سفارش کی۔ حکومت نے دیکھ بھال کر سب کو نامزد کیا اور یوں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔
عدالتی بغاوت کی کوشش!
بنگلادیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اچانک فل کورٹ کا اجلاس بلا لیا۔ ہائی کورٹ میں ۳۰ جج تھے سب کو فل کورٹ کے لیے بلا لیا گیا۔ طلبہ رہنمائوں کو شک ہوا کہ یہ کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ججز کی نگرانی کی اور اُن کی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ فل کورٹ میں حسینہ واجد کی بحالی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ نگران حکومت کے قیام کو غیر قانونی کہہ کر بحران پیدا کرسکتے ہیں۔ طلبہ رہنمائوں کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا سوائے اس کے کہ عدالت کا گھیرائو کرلیں۔ چنانچہ انہوں نے عدالت کا گھیرائو کرکے ہائی کورٹ کے ججز سے استعفوں کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف ہائی کورٹ کے ججوں نے بھی استعفوں سے انکار کر دیا۔
بنگلادیش کا عدالتی نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا۔ اس ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے بنگلادیش کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تمام ججوں کو اپنے چیمبر میں چائے پر بلالیا۔ مشاورت کے بعد یہ طے ہوا کہ تمام ججز لمبی چھٹی پر چلے جائیں گے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے طلبہ رہنمائوں کوسمجھایا کہ ان کے اختیار میں نہیں ہے کہ تمام ججز کو فارغ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ان ججز کو کوئی بینچ نہیں دیں گے۔ اس طرح اُن ججز کو عدالتی امور سے فارغ کیا گیا۔ حکومت نے ان کی جگہ ۲۳ نئے ججوں کا تقرر کیا اور انہیں عدالتی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔
بارڈر ایشو: بھارت کے ساتھ سرحد ی معاملہ!
ڈاکٹر یونس کی حکومت اور طلبہ رہنمائوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ سرحد پر بھارت کا کنٹرول ہونے کی وجہ سے جب چاہیں بھارتی شہری بنگلادیش میں داخل ہوتے ہیں اور جب چاہیں واپس چلے جاتے ہیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں R.A.W کے ایجنٹ بھی شامل تھے جو بنگلادیش کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے تھے۔ لہٰذا انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم کی قیادت میں بارڈر فورس کو ازسرنو منظم کیااور حکم دیا کہ سرحد کو مکمل سیل کر دیا جائے اور بھارتی فوج کی طرف سے کوئی غیر قانونی دراندازی نہ ہو۔ بنگلادیش اور بھارت کے درمیان ۴ ہزار کلومیٹر سے زیادہ بارڈر ایریا ہے۔ جناب جہانگیر عالم نے بہت محنت سے یہ کام کیا اور بالآخر سرحد کو سیل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب کوئی بھارتی غیرقانونی طور پر بنگلادیش میں داخل نہیں ہو سکتا۔
بنگلادیش کے وزیر قانون ڈاکٹر عاصم نزرل نے کہا ہے کہ ۲۸ لاکھ بھارتی ہنرمند بنگلادیش میں کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ بنگلادیش کی مختلف صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ اور زیادہ تر لوگ بنگلادیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں کام کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت اور R.AW کی ہدایت پر امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مختلف مطالبات کے ذریعے وہاں جلائو اور گھیرائو کرتے ہیں۔ مقصد اُن کا یہ ہوتا ہے کہ گارمنٹس کی پیداوار متاثر ہو، تاکہ جو آرڈر ملے ہیں وہ مکمل نہ کر سکیں اور اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکیں۔ اس طرح بنگلادیش کی معیشت کو تباہ کر دیں۔
واضح رہے کہ بنگلادیش میں ۴۵۰۰ گارمنٹس انڈسٹریز دن رات کام کرتی ہیں۔ ۱۴۳۰ سے زیادہ ٹیکسٹائل ملیں ہیں۔ صرف ڈھاکا کے (SAVAR) ساور کے علاقے میں ہی ۴۱۰ گارمنٹ فیکٹریاں ہیں، بھارت کا اصل مقصد بنگلادیش کی اس انڈسٹری کو تباہ کرنا ہے جہاں لاکھوں بنگلادیشیوں کو روزگار ملتا ہے اور ان گارمنٹس فیکٹریوں کے ذریعے بنگلادیش ۴۴ بلین ڈالر سالانہ زرِمبادلہ کماتا ہے۔ گویا یہ بنگلادیش کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بھارت بنگلادیش کے اس کاروبار کو تباہ کرکے یہ گارمنٹس انڈسٹری اپنے ملک میں لگانا چاہتا ہے۔
ڈاکٹر یونس کی حکومت نے طالب علم رہنمائوں سے مل کر گارمنٹس انڈسٹری کے مزدور رہنمائوں اور اُن کے مالکان سے مل کر مذاکرات کیے اور معاملات طے کیے اور ۱۵؍نکاتی فارمولے پر اتفاق ہوا۔ اس سمجھوتے میں گارمنٹس انڈسٹری کے مالک اور مزدور دونوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا اور یوں یہ معاملہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہوا، اور دوبارہ صنعتی پیداوار بحال ہوئی۔ اس معاملے میں بھی فوج نے حکومت کا مکمل ساتھ دیا بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ فوج، حکومت اور طلبہ رہنمائوں نے مل کر یہ کام کیا۔
خدا خدا کرکے گارمنٹس انڈسٹری نے بھرپور طریقے سے پیداوارشروع کی۔ بھارت کو یہ انتہائی ناگوار گزرا اور بھارت نے فوری طور پر بنگلادیش گارمنٹس ایکسپورٹ کرنے کے لیے اپنا روٹ بند کر دیا۔ حسینہ دور میں ہوتا یہ تھا کہ جہاز کے ذریعے بنگلادیش کے ریڈی میڈ گارمنٹس ایکسپورٹ کے لیے بنگلادیش بندرگاہوں سے شپ کے ذریعے کلکتہ لے جایا جاتا تھا اور وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچتا تھا۔ بھارت کو اس سے بھاری زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا تھا۔ اچانک بھارت کی طرف سے اس کو بند کر دینے سے بنگلادیش گارمنٹس انڈسٹری کو نقصان کا اندیشہ ہوا۔
ڈاکٹر یونس نے فوری طور پر مالدیپ کے صدر سے بات کی اور گارمنٹس انڈسٹری کے لیے مالدیپ کا روٹ مانگ لیا۔ مالدیپ نے بہت خوشی سے یہ پیشکش قبول کرلی اور اس پر مزید یہ کہ مالدیپ نے اسے کم قیمت اور زیادہ سہولتوں کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ بنگلادیش کا ۲۰۲۴ء میں گارمنٹس ایکسپورٹ ۴۴/۴۷ بلین ڈالر تھا، جو بنگلادیش کی کل آمدنی کا ۸۰ فی صد تھے۔
یہ سب کچھ کرنے کے باوجود یعنی بھارت کے ہر حربے استعمال کرنے کے باوجود وہ ڈاکٹر یونس کو اپنی گرفت میں نہ لاسکا مگر بھارت ابھی بھی مایوس نہ ہوا اور اس نے نیا اقدام یہ کیا کہ بنگالی شہریوں کو بھارت کا ویزا دینا بند کر دیا۔ بنگلادیشی سیاحوں اور علاج معالجے کے لیے جانے والوں کا ویزا بند کر دیا گیا۔ اس سے بھارت کے زرِمبادلہ میں اضافہ ہوتا تھا۔ بنگلادیش سے پابندی کے بعد ان لوگوں کا کسی اور ملک میں جانا بھی بند ہو گیا، کیونکہ حسینہ واجد نے یہی قانون بنایا تھا کہ جو بھی باہر کہیں جانا چاہے گا وہ پہلے بھارت جائے گاپھر وہاں سے ویزا لگوائے گا۔ اب ویزا بند ہونے کی وجہ سے بیشتر ممالک میں مقیم بنگلادیشی لوگوں کے ویزا مدت ختم ہوئی تو نوکریاں ختم ہوگئیں۔ صرف ملائیشیا میں ہی ۱۸؍ہزار لوگوں کی نوکری ختم ہو گئی۔ حال ہی میں جب ملائیشیا کے وزیراعظم بنگلادیش کے دورے پر تشریف لائے تو ڈاکٹر یونس نے اُن کے پاس اس مسئلے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سب لوگوں کا ویزا دوبارہ بحال کر یں گے تاکہ وہ ملائیشیا آ کر دوبارہ اپنی جاب جوائن کر لیں۔
دوسری طرف ڈاکٹر یونس نے اہم اقدام یہ کیا کہ آسٹریلیا، یورپ، امریکا، جرمنی، برطانیہ، ملائیشیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے سفیروں کو اپنے دفتر میں بلایا اور ویزوں کے مسئلے پر بات کی۔ سب نے انہیں یقین دلایا کہ وہ فوری طور پر بنگلادیش میں ہی ویزا لگانے کا انتظام کریں گے۔ بنگلادیش کے عوام ڈاکٹر یونس کے اس اقدام پر بہت خوش تھے۔
بجلی کا مسئلہ!
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں بنگلادیش میں بجلی کی پیداوار پر توجہ دینے کی بجائے بھارت سے مہنگے داموں بجلی خریدی جاتی تھی۔ اس سے بنگلادیش کی اکانومی کے اربوں ڈالر خرچ ہو جاتے تھے۔ جتنے ڈالرز وہ بھارت کو بجلی خریدنے پر ادا کرتے تھے اس سے کم خرچ پر بنگلادیش میں بجلی کی پیداوار کی جا سکتی تھی، لیکن سابقہ حکومت نے اس پر بالکل توجہ نہیں دی۔ حسینہ واجد کے دور کے ختم ہوتے ہی ڈاکٹر یونس کی حکومت کے آتے ہی بھارت نے بجلی کی سپلائی بند کر دی۔ یہ سپلائی اس لیے بند کی کہ بنگلادیش نے ادائیگی نہیں کی تھی اور یہ سابقہ دورِ حکومت کے وقت کی بات ہے۔ جیسے ہی ڈاکٹر یونس حکومت میں آئے تو انہوں نے تقریباً ایک بلین ڈالرز کی ادائیگی کر دی تھی۔
لیکن مزید ۷۰۰ ملین ادا ہونا باقی تھے۔ ڈاکٹر یونس کی حکومت نے اڈانی گروپ سے بقیہ رقم ادا کرنے کا یقین دلایا تھا، لیکن بھارت کے اڈانی گروپ نے اچانک بجلی کی سپلائی بند کر دی۔ اُن کا مقصد بنگلادیش انڈسٹری میں پیداوار کو خاص طور پر گارمنٹس فیکٹریوں کی پیداوار کو نقصان پہنچانا تھا۔ بنگلادیش کی حکومت ساتھ ساتھ عوام کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کررہی تھی۔ عوام یہ بات سمجھ رہے تھے کہ بھارت بنگلادیش کو زِچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عوام نے حکومتی اقدامات کا ساتھ دیا۔ ڈاکٹر یونس نے بھوٹان سے بجلی کا معاہدہ کیا اور بجلی کی ترسیل کو بہتر کیا اور ملک میں نئے پاور پلانٹ لگانے کے اقدامات شروع کر دیے۔ بھارت کی طرف سے مسلسل اس طرح کے اقدامات نے عوام کے دل میں اور نفرت بھر دی۔
بھارت کی طرف سے ویزے بند کرنے کی وجہ سے خود بھارت کو ہی معاشی طور پر بہت نقصان ہوا۔ بنگلادیش بننے کے بعد بنگلادیشی عوام سیاحت کے لیے اور علاج معالجے کے لیے بھارت جاتے تھے۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ بھارت کو اس کے لیے ۱۰۰؍نئے ہوٹل بنانے پڑے تھے۔ بہت سارے گیسٹ ہائوسز بنائے گئے تھے۔ نئی مارکیٹس کھولی گئی تھیں۔ بہت سارے اسپتال کھل گئے تھے۔ اب بنگلادیشی عوام کی طرف سے بائیکاٹ اور کچھ ویزوں پر پابندی کی وجہ سے سب ویران پڑا ہے۔ کلکتہ کے بازار سنسان ہو گئے۔ جن کے کاروبار ٹھپ ہو گئے، وہ سب حکومت بھارت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ بنگلادیش سے تعلقات بہتر کیے جائیں اور انہیں ویزے جاری کیے جائیں اور انہیں وہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ بنگلادیشی عوام دوبارہ بھارت آنا شروع کرے اور ان کے کاروبار بحال ہوں۔ بنگلادیش کے عوام بھارت سے شدید نفرت کرنے لگے ہیں، اس وقت وہاں ہر طرف بھارت کے خلاف نعرہ لگ رہا ہے کہ اب بھارت کی غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ وہ بھارت سے تعلقات کو زیرو پر لانا چاہتے ہیں۔ Dependancy (بھارت پر انحصار) کو زیرو پر لانا چاہتے ہیں۔
جب ۵؍اگست (حسینہ واجدکے فرار) کا واقعہ ہوا تھا تو بھارت کو یہ امید تھی کہ بنگلادیش کو بھارت کے سامنے بالآخر جھکنا پڑے گا۔ بنگلادیش کو چلانے کے لیے ہتھیار ڈالنے ہوں گے، لیکن طلبہ رہنمائوں کی کوششوں اور ڈاکٹر یونس کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے ہر طرف سے مدد کرنے والے آ گئے۔ بھارت کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بنگلادیش بھارت کی مدد کے بغیر اپنی حکومت چلا پائے گا۔
بھارت اس وقت شدید اضطراب اور غصے میں ہے۔ بنگلادیش کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہے۔ اُن کی فوج بھارتی سرحد پر کھڑی ہے۔ کسی بھی وقت وہ مداخلت کر سکتے ہیں، لیکن وہ ڈاکٹر یونس کی حکمت عملی سے ڈرتے ہیں۔ پوری دنیا ڈاکٹر یونس کی ایک فون کال کی منتظر ہے۔ بنگلادیش میں بھارت اور RAW کی تمام چالیں اور سازشیں ڈاکٹر یونس کی حکمت عملی کے سامنے شکست سے دوچار ہیں۔ کوئی بڑا اقدام کرنے کا بھارت بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ ۵۳ سال کے بعد پاکستان کا ایک سمندی جہاز کراچی بندرگاہ سے سامان لے کر چٹاگانگ بندرگاہ پہنچا تو بھارت میں کھلبلی مچ گئی کہ جہاز براہِ راست پاکستان سے کیسے بنگلادیش پہنچ گیا۔ یہ اُن سے تعلقات کا نیا دور کیسے شروع ہو گیا جس کی خبر بھی بھارت کو نہ ہو سکی۔
۲۰۱۵ء میں حکومت بنگلادیش کی ہدایت پر ڈھاکا یونیورسٹی نے پاکستان سے ہر قسم کا رابطہ ختم کر دیا تھا۔ ڈھاکا یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ تعلیمی اداروں میں کسی پاکستانی کو داخلہ نہیں مل سکتا تھا۔ اب ڈاکٹر یونس کی حکومت نے اس پابندی کو اٹھانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ بھارت اس پر سراپا احتجاج ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا ہم صرف دیکھتے رہ جائیں اور کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ پابندی اٹھتے ہی ڈھاکا یونیورسٹی میں ۹ نومبر کو علامہ اقبال ڈے منایا گیا۔ بلاشبہ یہ پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات درست کرنے میں ایک بہترین آغاز ہے۔
بنگلادیش اور بھارت کے تعلقات!
حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ بنگلادیش کے عوام مجیب الرحمان اور حسینہ واجد سے جڑی ہر چیز سے نفرت اور لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں، اور اُن کی باقیات کو توڑ پھوڑ رہے ہیں، اور بھارت کے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے۔ جھارکھنڈ (Jahr Khand) میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ بنگالیوں کو پھندوں پر جھلا کر سیدھا کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اُن کو سیدھا کریں گے۔ امیت شاہ نے یہ بات ۲۰ ستمبر کو کی ہے۔ بنگلادیش کی حکومت نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ۱۵؍ستمبر کو جمشید پور شہر میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ بنگلادیش کے متعلق بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔ ۵ ستمبر کو بھارتی وزیر دفاع راج نات سنگھ نے فوجی کمانڈر کو یہ حکم دیا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہے۔ وہ بنگلادیش کے مسئلے پر فوجی کمانڈروں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ سرپرائز (اچانک) اٹیک کے لیے تیار رہیں۔