افغانستان میں نیو گریٹ گیم

ڈھائی تین صدیوں کے دوران گریٹ گیم میں اہم مہرے، بلکہ بساط کا کردار ادا کرنے والے افغانستان کو ایک بار پھر غیرمعمولی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ امریکا نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں جو نیا گریٹ گیم شروع کیا ہے، اُس میں افغانستان اہم منزل ہے اور غیرمعمولی اہمیت کا حامل پڑاؤ ہے۔ پیٹر ہاپکرک نے اپنی معرکہ آرا کتاب ’’دی گریٹ گیم: دی اسٹرگل فار ایمپائر اِن سینٹرل ایشیا‘‘ میں بتایا تھا کہ کس طور انیسویں صدی کے دوران روس اور برطانیہ نے افغانستان پر بھرپور بالادستی قائم کرنے کی کوششیں کیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ افغانستان کے معاملے میں وہ ایک دوسرے کے مقابل آجائیں گے، یعنی جنگ ہو جائے گی تو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹے اور مناقشے کے بجائے ہم آہنگی کی راہ پر گامزن ہونا پسند کیا۔ افغانستان کی سرزمین اُس وقت سیاسی و جغرافیائی کشمکش کی ایک اہم کڑی تھی اور اس بساط پر چالیں چلنے والے بہت کچھ سوچتے تھے۔

روس اور برطانیہ نے اپنے درمیان کسی بڑی جنگ کو ٹالنے میں عافیت جانی اور افغانستان کو وسطی ایشیا اور برصغیر (موجودہ پاکستان، بھارت، بنگلادیش وغیرہ) کے درمیان بفرزون کا درجہ دیا۔ افغانستان کی یہ حیثیت بیسویں صدی کے دوران سرد جنگ کے خاتمے تک برقرار رہی۔

امریکا نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر چڑھائی کی۔ تب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔ یہ حکومت باضابطہ اور تسلیم شدہ تھی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس حکومت کو تسلیم کرچکے تھے۔ امریکا اور یورپ کو یہ سب کچھ گوارا نہ تھا۔ انہوں نے طالبان کی مدد سے سابق سوویت یونین کی افواج کو افغانستان میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکا اور یورپ نے افغانستان کو دبوچنے کی کوشش کی۔ دو عشروں کی بھرپور جدوجہد کے بعد بھی یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ امریکا نے تھک ہار کر اگست ۲۰۲۱ء میں افغانستان کی سرزمین سے مکمل انخلا کیا۔ امریکا کے جانے کے بعد افغانستان میں دوبارہ طالبان برسرِ اقتدار آگئے۔ انہوں نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ امریکا کے انخلا کے وقت یا بعد میں قتلِ عام نہیں ہوا۔ باضابطہ انتقالِ اقتدار تو خیر نہیں ہوا تاہم امریکا اور یورپ نے طالبان کی راہ میں کوئی دیوار بھی کھڑی نہیں کی۔ قطر میں طالبان سے مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے، جس کے نتیجے میں افغانستان مزید خوں ریزی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔

امریکی فوج نے افغانستان کی سرزمین کو خاصے عاجلانہ اور بھونڈے انداز سے خیرباد کہا اور اس کے بعد وہاں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو اب تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکا ہے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ حکومت انتخابی عمل کے ذریعے یعنی جمہوری طریقے سے معرضِ وجود میں نہیں آئی ہے۔ اگر امریکا اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے تو خود اُس کی جمہوریت پسندی اور جمہوریت کا سب سے بڑا علم بردار ہونے کی حیثیت پر سوالیہ نشانہ لگ جائے گا۔ طالبان حکومت نے ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ اُس نے کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی حریف کو ابھرنے کا ایک فیصد موقع بھی نہیں دیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں افغانستان ایک ایسی حکومت کے ماتحت جی رہا ہے جو انتہائی جابرانہ ہے اور ہر معاملے میں اپنی مرضی ہی کو قانون کا درجہ دیتی ہے۔ طالبان حکومت نے خواتین کے بنیادی حقوق غصب کیے ہیں۔ اُنہیں تعلیم کے حق سے یکسر محروم کرنے کی راہ پر گامزن رہنے سے دنیا بھر میں طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

امریکا نے افغانستان میں دوبارہ قدم جمانے کی بھرپور کوشش شروع کردی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ امریکا افغانستان میں قدم جمانے کے بعد روس اور چین پر نظر رکھنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان اور ایران کو بھی دبوچے رکھنے میں آسانی رہے گی۔

گزشتہ چار برسوں میں امریکا مجموعی طور پر افغانستان سے کنارہ کش رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں دوبارہ قدم جمانے کی ٹھانی ہے۔ بگرام ایئربیس کا مکمل کنٹرول دوربارہ حاصل کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں۔ طالبان سے رابطے شروع ہوچکے ہیں۔ افغان امور کے امریکی ماہر اور سینئر سفارت کار زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکا کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے مارچ میں افغانستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بظاہر بنیادی مقصد امریکی سیاح جارج گلیزمین کی رہائی یقینی بنانا تھا۔ وفد نے طالبان حکام سے بات چیت کی اور اسے تعمیری اور مثبت بھی قرار دیا۔

زلمے خلیل زاد اور خصوصی امریکی ایلچی ایڈم بوہلر نے کابل میں طالبان حکومت سے عمومی طور پر اور وزیرِ خارجہ سے خصوصی طور پر بات چیت کی۔ طالبان وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ ہم گلیزمین کی رہائی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آمادہ ہوئے ہیں اور یہ کہ طالبان کا یہ اقدام خیرسگالی کے جذبے کے تحت ہے۔ امریکا کو اس دورے کی کامیابی کا انتظار تھا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے طالبان سے ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ جارج گلیزمین کی رہائی کے لیے ہونے والی ڈیل معاملات کو درست کرنے کی سمت ایک اہم قدم اور پیش رفت ہے۔

قطر نے اس حوالے سے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ قطر ایک زمانے سے طالبان کا ہیڈ کوارٹر رہا ہے۔ امریکی وفد کے کابل کے دورے کے لیے قطر نے سہولت کار کی حیثیت سے اپنا کردار خوب ادا کیا۔ اس نے گلیزمین کی رہائی ممکن بنانے کے لیے مصالحت اور ثالثی بھی کی تاکہ معاملات بہ حسن و خوبی طے پاجائیں۔ طالبان نے بھی اس موقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ایسے بیانات جاری کیے، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی برادری کو باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ بہت حد تک قابلِ قبول ہے اور اب اُس کی حکومت کو مکمل طور پر تسلیم کرکے باضابطہ حیثیت دے دی جائے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں افغان وزارتِ خارجہ نے لکھا کہ گلیزمین کی رہائی کے حوالے سے امریکا سے ڈیل بتاتی ہے کہ افغان قیادت امریکا سمیت تمام ہی فریقین سے مفید روابط اُستوار کرنے کی قائل ہے اور باہمی احترام کو غیرمعمولی اہمیت دیتی ہے اور تسلیم شدہ مفادات کا ہر حال میں تحفظ چاہتی ہے۔

ابھی بہت سے سوال معقول اور اطمینان بخش جواب کے منتظر ہیں۔ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ امریکا اور طالبان قیادت کے درمیان رابطوں کی نوعیت کیا ہے اور بہت جلد یہ روابط کیا شکل اختیار کریں گے۔ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان قیادت بگرام ایئربیس کا کنٹرول مکمل طور پر امریکا کے حوالے کرے گی یا نہیں۔ سوال اور بھی بہت سے ہیں۔ مثلاً یہ کہ بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور خطے میں بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور کشیدگی کیا شکل اختیار کرے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست ۲۰۲۱ء میں افغانستان سے امریکا کے عاجلانہ انخلا پر شدید تنقید کرتے ہوئے اِسے سابق صدر جوبائیڈن کی نمایاں ناکامی قرار دیا تھا۔ اُن کے خیال میں افغانستان سے یوں نکلنا صدر بائیڈن کی نااہلی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ اب وہ خود افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ قدم رکھنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے امریکی مفادات کو خطرات لاحق ہوئے کیونکہ بگرام ایئربیس کا کنٹرول امریکا کے ہاتھ سے نکل گیا۔

امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کم و بیش ۸۰؍ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار اور جنگی ساز و سامان موجود ہے۔ یہ تمام ہتھیار اور ساز و سامان طالبان کو مل سکتا ہے۔ طالبان اس سامان اور ہتھیاروں کی مدد سے اپنی عسکری قوت میں غیرمعمولی اضافہ کرسکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طور امریکی فوج ایک بار پھر افغان سرزمین پر موجود ہو اور متحرک بھی ہو۔ یہ بات عسکری امور کے تجزیہ کار بخوبی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے کا مقصد افغان عوام سے ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے جو ڈیل کی ہے، وہ اب تک صیغۂ راز میں ہے۔ کچھ پتا نہیں چل رہا کہ فریقین کن امور پر متفق ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ طالبان حکومت کو تسلیم کرکے کابل سے باضابطہ سفارتی تعلقات اُستوار کرے گی یا نہیں۔ طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان، بھارت، چین، روس اور ایران نے اِس سے اب تک تعلقات بہت نچلی سطح کے رکھے ہیں۔ پاکستان نے افغان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرکے تعلقات کو وسعت دینے سے گریز کیا ہے۔ طالبان کو سب سے زیادہ ضروری یہ لگتا ہے کہ اُن کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا جائے تاکہ وہ عالمی برادری میں ڈٹ کر کوئی بات کرسکیں۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کے سابق صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی کے طریقِ کار کے برعکس طالبان حکومت سیاسی تکثیریت پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ابھرنے اور کام کرنے کا موقع نہیں دے رہی۔ انتخابات کا دور تک کوئی امکان نہیں۔ طالبان انتخابی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم پر بھی قدغن لگا رکھی ہے۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی نے امریکا اور یورپ کی سرپرستی میں حکومت کی اور بنیادی حقوق کی پاسداری ممکن بنائی۔ اُن کے ادوارِ حکومت میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ انہوں نے جمہوری کلچر کو بھی پروان چڑھنے دیا۔ طالبان نے خواتین کی تعلیم و ملازمت پر پابندی عائد کرکے ملک کی نصف آبادی کے حقوق غصب کیے ہیں۔ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی یہی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے غیرلچکدار رویہ اپنائے جانے کے باوجود امریکا اور چند دوسرے اہم مغربی و غیرمغربی ممالک افغانستان میں قدم جمانا چاہتے ہیں۔ وہ کابل سے باضابطہ سفارتی روابط اُستوار کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسٹریٹجک مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار پھر بڑی طاقتیں افغانستان کو گریٹ گیم کا اکھاڑا بنانا چاہتی ہیں۔ کم و بیش دو صدیوں کے دوران افغانستان کی سرزمین کو روس، برطانیہ اور امریکا کے درمیان کشمکش کے مرکز کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اب پھر ایسی ہی کیفیت ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔

افغانستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں کے جنگجو سردار بیرونی طاقتوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جب وہ طاقتیں آجاتی ہیں تو اُنہیں گھیر لیا جاتا ہے۔ افغانستان میں وفاداری خریدنا کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ روس، برطانیہ اور امریکا نے ہر دور میں یہی کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد کی صورتحال کا ریکارڈ گواہ ہے کہ امریکا نے جی بھر کے مال خرچ کیا اور افغان جنگجو سرداروں کی وفاداری خرید کر طالبان حکومت کو چلتا کیا۔ افغان جنگجو سرداروں کی وفاداری خریدے بغیر طالبان حکومت کی بساط لپیٹنا کسی طور ممکن نہ تھا۔

امریکا نے اس بار بھی تجوریوں کے منہ کھولنے کی پالیسی ہی اختیار کی ہے۔ وہ بگرام ایئربیس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طالبان حکومت کو جی بھر کے نوازنا چاہتا ہے۔ طالبان کو اس وقت مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ وسائل نہ ہونے کے باعث وہ فوج بھی کھڑی نہیں کر پارہے۔ فی الحال امریکا نرم قوت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتا ہے یعنی وہ امداد دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور سفارت کاری کو بھی بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ افغان سرزمین پر قدم جم جائیں تو پالیسی اور اسٹریٹجی تبدیل کی جاسکتی ہے۔

امریکا بگرام ایئربیس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرکے پاکستان اور ایران پر بالخصوص دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قتل کے لیے امریکا نے بگرام ایئربیس ہی کا سہارا لیا تھا۔

افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کا تحرک بہت سی داستانوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بگرام ایئربیس کا کنٹرول صرف اس لیے حاصل کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا ہو کہ ایٹمی اثاثے انتہا پسندوں کے ہاتھ لگیں۔

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق قیاس آرائیاں ایک زمانے سے چلن میں ہیں۔ امریکا اور دیگر مغربی طاقتیں عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیرمحفوظ ہاتھوں میں ہیں اور انتہا پسند عناصر کسی بھی وقت اِن اثاثوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی اس نوعیت کی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتی رہی ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ طالبان امریکی قیادت کو بگرام ایئربیس کا کنٹرول سونپنے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں اور کیا اس حوالے سے امریکا اُنہیں خرید سکے گا۔

کابل میں طالبان حکومت بہت مضبوط پوزیشن میں ہے اور اُس کا موقف واضح طور پر پاکستان مخالف رہا ہے۔ وہ امریکا کو بگرام ایئربیس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دینے پر رضامند بھی ہوسکتی ہے۔ اور اس کے عوض ٹرمپ انتظامیہ طالبان حکومت کی سیاسی تنہائی ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکی قیادت افغان سرزمین پر موجود اپنے کم و بیش ۸۰؍ارب ڈالر کے ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان پر دعوے سے دستبردار ہوجائے۔

امریکا طالبان حکومت کو امریکی ہتھیاروں کی مرمت کے حوالے سے بھی خدمات پیش کرسکتا ہے اور یوں افغان فوج کی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں نئے گریٹ گیم کا شروع ہونا ایک ایسی نئی زمینی حقیقت ہے جو آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے بڑے چیلنج کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ طالبان حکومت سے بھارت کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں، اس لیے فی الحال افغانستان میں بھارتی مفادات کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں طالبان حکومت سے بھارت کے تعلقات بہتر ہو جائیں۔                              (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“New great game focuses on Iran and Pakistan”. (Daily “Dawn” Karachi. April 21, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں