ایک زمانے سے بھارتی قیادت اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ امریکا کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سے بھی غیرمعمولی تجارتی شراکت داری قائم کرے اور اس کا حجم اِتنا ہو کہ طے کرنا

یہ حقیقت تو اب بالکل واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی معیشت کو نئی زندگی دینے کے لیے کچھ بھی کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ وہ دن رات ایسے اعلانات اور اقدامات کر رہے ہیں

یہ تو اب ماننا ہی پڑے گا کہ امریکا دنیا کو ویسی نہیں رہنے دینا چاہتا جیسی وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے رہی ہے۔ وہ اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر

ایسی حکومت، جس کے پاس ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے راگ الاپتی ہے، جب کہ اس کا سیاسی ڈھانچا نفرت انگیز تقاریر، حاشیے پر ڈالنے والی پالیسیوں اور

’’آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ مصنوعی ذہانت کو اچھائی کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن مائیکروسافٹ اسرائیلی فوج کو مصنوعی آلات فروخت کررہا ہے جن کی مدد سے صہیونی فوج فلسطینیوں کی نسل کشی

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے پرت کھلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جن سے یہ اب زیادہ صاف دِکھنے لگا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ایک تباہ کن جنگ اسرائیل اور اس کی

سبیر بھاٹیہ بھارتی نژاد امریکی ارب پتی آجر ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ہیں۔ انہوں نے ۱۹۹۶ء میں ہاٹ میل کے نام سے ای میل سروس شروع کی جو ابتدائی ویب

پروفیسر خورشید احمد کا سفرِ حیات بھی تمام ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جو جانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں یہ کون رجلِ رشید تھا جو زمانے سے اٹھا، جو نہیں جانتے وہ مگر

١٦ اپریل ۲۰۲۵

۸

:شمارہ نمبر

|

۱۸

:جلد نمبر