پاک۔بھارت اطلاعاتی جنگ اور صحافت کی موت

غلط انفارمیشن کے علاوہ ٹی وی اینکروں کی گندی زبان اور گالی گلوچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سفید جھوٹ اور پروپیگنڈہ کوئی انٹرنیٹ ٹرول نہیں بلکہ قومی سطح کے بڑے میڈیا ادارے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کے کہنے پر پھیلا رہے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کا پہلا شہید […]

امریکا کے لیے ٹرمپ ہی کافی ہیں!

ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کو دوبارہ عظمت سے ہمکنار کرنے کے مشن پر اُن کے ساتھ نکلنے والے چاہے جو بھی مانیں اور دعوے کریں، حقیقت یہ ہے کہ روئے ارض کی کوئی قوم حساب کتاب کے اصولوں اور توازنِ ادائیگی کی بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ ہم اس نکتے پر لامتناہی بحث کرسکتے […]

بھارت بند گلی میں جارہا ہے؟

کسی بھی ریاست کو حقیقی بڑی ریاست میں کون سی چیز تبدیل کرتی ہے؟ اِس سوال کو یوں بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ کون سا وصف ہے جو کسی بھی ریاست کو بلند کرکے قیادت کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ اہلِ دانش کے نزدیک کسی بھی نسل، قوم، ریاست یا معاشرے کو اگر […]

موسمِ گرما کی تعطیلات: بچوں کو خیالات بُننے کی آزادی دیں

موسمِ گرما کی تعطیلات کا آغاز ہونے والا ہے۔ کتنی خوشی کی بات ہے۔ رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر تک سونے، وقت کی پروا کیے بغیر پُرسکون انداز میں کام کرنے کا کیا بہترین موقع ہے۔ ظاہر ہے اسکولوں کی جانب سے ہوم ورک ملے گا اور کچھ والدین بچوں کے لیے شیڈول […]

۔۔۔اور حوصلہ جیت گیا!

دشمن نے جو کچھ بھی سوچا تھا، وہ خام خیالی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑائی کیا شروع ہوئی، دشمن کے لیے ذلت کا بازار سجنے لگا۔ برسوں بلکہ عشروں کے دوران پروان چڑھایا جانے والا غرور خاک میں مل گیا۔ ملنا ہی تھا کیونکہ غرور کا مطلب ہے دھوکا، وہ دھوکا جو کوئی اپنے […]

پاکستان: جوہری طاقت کا حصول آسان نہ تھا!

یہ اپریل ۱۹۹۴ء کی بات ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ واشنگٹن کے سرکاری دورے پر تھے۔ ۱۹۹۰ء میں جوہری معاملے پر پاکستان امریکا کی جانب سے عسکری اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہا تھا۔ نتیجتاً ۲۸؍ایف۔۱۶ طیاروں اور بڑے پیمانے پر دیگر فوجی ساز و سامان جن کی پاکستان ادائیگی کرچکا تھا، […]

پروفیسر خورشید احمد: روشن یادیں!

۱۰؍اپریل (۲۰۲۵ء) کی دوپہر فون موصول ہوا:’’آپ سے کہا تھا، ’جب وہ ناظم اعلیٰ تھے‘ کے پہلے تین حصے بھجوا دیں، اس کا کیا کیا ہے؟‘‘’’عرض کیا: فاؤنڈیشن آنے والے ایک صاحب کو دے دیے ہیں، ۲۰؍اپریل تک ان شاء اللہ وہ پہنچا دیں گے‘‘۔پھر دریافت فرمایا: ’’اچھا، تو مئی کے شمارے کے لیے کون […]

پروفیسر صاحب کی کشمیر سے قلبی وابستگی

پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیکھنے اور سننے سے پہلے اُن کے علم، فہم، تدبر اور کردار کا بہت چرچا سن رکھا تھا۔ ان کا نام علمی، فکری اور دینی حلقوں میں احترام سے لیاجاتا تھا۔ تاہم، ۱۹۹۲ء میں جب مجھے اُن کے قائم کردہ ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)سے وابستہ […]

ڈرنے کا زمانہ گیا!

ایک دور تھا، جسے گزرے ابھی بہت زیادہ دن نہیں گزرے، جب بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان واقع سرحد خونیں لکیر تھی اور یہ لکیر اِس لیے خونیں تھی کہ بھارت نے دراندازی کا الزام لگاکر بنگلا دیشیوں کے قتل کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ عشروں تک بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی […]

پاکستان اور بھارت کے درمیان بے اعتمادی

پاکستان اور بھارت ایک خوفناک تنازع کے دہانے سے واپس لوٹے ہیں۔ اس تنازع کا اختتام جانا پہچانا تھا جہاں امریکا نے مداخلت کی لیکن دونوں ممالک کو یہ نہیں لگتا کہ بحران واقعی میں ختم ہوچکا ہے۔ تاہم بہت سے نتائج فی الوقت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت (جو تادمِ تحریر ہونا […]