یہ اپریل ۱۹۹۴ء کی بات ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ واشنگٹن کے سرکاری دورے پر تھے۔ ۱۹۹۰ء میں جوہری معاملے پر پاکستان امریکا کی جانب سے عسکری اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہا تھا۔ نتیجتاً ۲۸؍ایف۔۱۶ طیاروں اور بڑے پیمانے پر دیگر فوجی ساز و سامان جن کی پاکستان ادائیگی کرچکا تھا، […]
پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیکھنے اور سننے سے پہلے اُن کے علم، فہم، تدبر اور کردار کا بہت چرچا سن رکھا تھا۔ ان کا نام علمی، فکری اور دینی حلقوں میں احترام سے لیاجاتا تھا۔ تاہم، ۱۹۹۲ء میں جب مجھے اُن کے قائم کردہ ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)سے وابستہ […]