۱۰؍اپریل (۲۰۲۵ء) کی دوپہر فون موصول ہوا:’’آپ سے کہا تھا، ’جب وہ ناظم اعلیٰ تھے‘ کے پہلے تین حصے بھجوا دیں، اس کا کیا کیا ہے؟‘‘’’عرض کیا: فاؤنڈیشن آنے والے ایک صاحب کو دے دیے ہیں، ۲۰؍اپریل تک ان شاء اللہ وہ پہنچا دیں گے‘‘۔پھر دریافت فرمایا: ’’اچھا، تو مئی کے شمارے کے لیے کون […]

پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیکھنے اور سننے سے پہلے اُن کے علم، فہم، تدبر اور کردار کا بہت چرچا سن رکھا تھا۔ ان کا نام علمی، فکری اور دینی حلقوں میں احترام سے لیاجاتا تھا۔ تاہم، ۱۹۹۲ء میں جب مجھے اُن کے قائم کردہ ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)سے وابستہ […]

پروفیسر خورشید احمد کا سفرِ حیات بھی تمام ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جو جانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں یہ کون رجلِ رشید تھا جو زمانے سے اٹھا، جو نہیں جانتے وہ مگر شاید اب کبھی نہ جان پائیں۔یہ کسی فردِ احد کی کہانی ہوتی تو میں لکھ دیتا، یہ تو ایک مکمل […]