ہم ایک ایسے دَور میں جی رہے ہیں جس میں دکھائی دینے والی طاقتوں سے زیادہ طاقتیں وہ ہیں جو بالکل دکھائی نہیں دیتیں۔ جو کچھ یہ نادیدہ طاقتیں کرتی ہیں، وہ وقت آنے پر

سوڈان کا اصل مسئلہ آخر کیا ہے؟ یہ کیوں باہم دست وگریباں ہیں؟ حالانکہ سوڈان وہ ملک ہے جو کبھی افریقا کا اناج گھر (Food Basket of Africa) کہلاتا تھا، جس کی زمینیں دریائے نیل

سوڈان کے جن علاقوں میں لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے وہاں غذائی تحفظ میں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ جنگ زدہ اور زیر محاصرہ علاقوں میں قحط پھیل رہا ہے۔ ملک میں بھوک

’حمیدتی‘ کے نام سے مشہور محمد حمدان دگولو سوڈان کے سیاسی منظرنامے پر ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کی نیم فوجی تنظیم، ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اس وقت

’’اب مزاحمت سے کچھ حاصل نہ ہوگا، جو ہونا ہے وہ ہونا ہے۔‘‘ یہ جملہ مشہور ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک کا ہے اور پس منظر ہے مشینی انسانوں کے ہاتھوں اس دنیا کے غلام

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے (زبانی) جنگ بندی معاہدے نے عالمِ اسلام بالخصوص فلسطینی عوام میں خوشی کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ اس زبانی معاہدے کی باقاعدہ دستاویزی کارروائی ۱۳؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو

جب ظہران ممدانی نے نیویارک کے نئے میئر کے بطور الیکشن میں جیت درج کی، تو مجھے دہلی کی ایک پرانی، پسینے سے بھری دوپہر یاد آئی۔ صحافت کے ابتدائی دن تھے۔ میں نے اُن

آج کی دُنیا میں عوامی طاقت کا غَلغلہ ہے۔ ہجوم کی نفسیات ہر جگہ اور ہر معاملے میں کارفرما اور کہیں کہیں کارگر دکھائی دیتی ہے۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہت

پانی کا بحران عالمگیر ہے یعنی کوئی بھی ملک اِس سے بچا ہوا نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ہمیں عمومی سطح پر پانی کا بحران دکھائی نہیں دیتا تاہم اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا

کیڈٹ کالج پر حملہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی اسلام آباد میں کچہری کے باہر دھماکا ہو جاتا ہے۔ دہشت گردی کی ایک نئی لہر دستک دے رہی ہے۔ اس پر ہمارے ہاں بالعموم طالبان

یکم، ١٦ نومبر۲۰۲۵

۲۱، ۲۲

:شمارہ نمبر

|

۱۸

:جلد نمبر