دشمن نے جو کچھ بھی سوچا تھا، وہ خام خیالی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑائی کیا شروع ہوئی، دشمن کے لیے ذلت کا بازار سجنے لگا۔ برسوں بلکہ عشروں کے دوران پروان چڑھایا جانے
یہ اپریل ۱۹۹۴ء کی بات ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ واشنگٹن کے سرکاری دورے پر تھے۔ ۱۹۹۰ء میں جوہری معاملے پر پاکستان امریکا کی جانب سے عسکری اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا
۱۰؍اپریل (۲۰۲۵ء) کی دوپہر فون موصول ہوا:’’آپ سے کہا تھا، ’جب وہ ناظم اعلیٰ تھے‘ کے پہلے تین حصے بھجوا دیں، اس کا کیا کیا ہے؟‘‘’’عرض کیا: فاؤنڈیشن آنے والے ایک صاحب کو دے دیے
پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دیکھنے اور سننے سے پہلے اُن کے علم، فہم، تدبر اور کردار کا بہت چرچا سن رکھا تھا۔ ان کا نام علمی، فکری اور دینی حلقوں میں احترام سے لیاجاتا
ایک دور تھا، جسے گزرے ابھی بہت زیادہ دن نہیں گزرے، جب بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان واقع سرحد خونیں لکیر تھی اور یہ لکیر اِس لیے خونیں تھی کہ بھارت نے دراندازی کا
پاکستان اور بھارت ایک خوفناک تنازع کے دہانے سے واپس لوٹے ہیں۔ اس تنازع کا اختتام جانا پہچانا تھا جہاں امریکا نے مداخلت کی لیکن دونوں ممالک کو یہ نہیں لگتا کہ بحران واقعی میں